ملک کے خلاف کسی مسلح کارروائی کی تائید نہیں کرسکتے، تقی عثمانی

ذرائع کے مطابق اسلام آباد میں پیغامِ پاکستان قومی کانفرنس کا انعقاد کیا گیا جس سے ملک کے معروف علماء، مشائخ اور سیاسی رہنماؤں نے خطاب کیا۔ پیغامِ پاکستان قومی کانفرنس کے اعلامیے میں کہا گیا ہےکہ پیغامِ پاکستان قرآن و سنت،  دستور پاکستان اور پاکستانی قوم کی اجتماعی سوچ کاعکاس ہے، پیغامِ پاکستان کو قومی اسمبلی اور سینیٹ سے منظور کرایا جائے، پیغامِ پاکستان کو ملک میں بطور پالیسی نافذ کیا جائے۔اعلامیے میں کہا گیا ہےکہ کسی بھی نام نہاد دلیل پرپاکستان کی اسلامی حیثیت سے انکار درست نہیں، حکومت فوج یا سکیورٹی ایجنسیوں کے اہلکاروں کو غیر مسلم قرار دینا شریعت و قانون کی خلاف وزری ہے اور ان کےخلاف مسلح کارروائی بھی شریعت وقانون کے خلاف ہے، نفاذشریعت کے نام پر طاقت کا استعمال یا ریاست کے خلاف محاذ آرائی حرام ہیں۔ اعلامیے میں مزیدکہا گیاکہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں علماء و مشائخ ریاست، پولیس، فوج اور تمام اداروں کے ساتھ کھڑے ہیں، لسانی، علاقائی اور مذہبی بنیادوں پر ریاست کے خلاف مصروف گروہ شرعی احکامات کی خلاف وزری کر رہے ہیں، طاقت کی بنیاد پر دوسرے پر اپنا نظریہ مسلط کرنےکی روش غیر شرعی ہے، دہشت گرد اور فرقہ ورانہ تنظیموں کی طرف سے نام نہاد جہاد غیر شرعی ہے۔ تقی عثمانی نے کہا کہ میں نے ٹی ٹی پی کے سربراہ نور ولی سے ملاقات میں کہا کہ آپ حضرات نے 20 سال تک اسلحہ اٹھایا، بچوں، عورتوں اور علماءکوبھی نہیں بخشا، آپ بتائیں کیا 20 سال کی اس جدوجہد سےکوئی ادنٰی تبدیلی آئی؟ آپ کیوں مصر ہیں کہ مسلمانوں کے خلاف بندوق اٹھائے رکھنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ میری گفتگو کے بعد ٹی ٹی پی کے سربراہ نور ولی اور ان کے رفقاء نےکہا کہ آپ کی باتیں سمجھ آگئی ہیں اب ہم ہتھیار نہیں اٹھائیں گے۔

 

Leave A Reply

Your email address will not be published.

ٹول بار پر جائیں