متنازع ٹوئٹ کیس میں اعظم سواتی کی ضمانت منظور

سینیٹر اعظم سواتی کی درخواست ضمانت پر سماعت چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ جسٹس عامر فاروق نے کی۔

اعظم سواتی کے وکیل بابر اعوان نے عدالت میں دلائل دیتے ہوئے کہا کہ سندھ اور بلوچستان کی ہائیکورٹس نے اعظم سواتی کے خلاف مقدمے ختم کر دیے، انہوں نے جیب سے ایک کمپلینٹ نکالی اور مقدمہ بنا دیا، میں نے کبھی ایسی ایف آئی آر نہیں دیکھی جس میں ٹائم اور وقوعہ کی جگہ نا لکھی ہو۔

چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ نے بابر اعوان سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ یہ کہہ رہے ہیں ایس او پیز کو فالو نہیں کیا گیا، جس پر بابر اعوان نے جواب دیا، جی بالکل، مجھے انہوں نے بتانا ہے کہ میرے موکل کے خلاف کیا چارجز ہیں، مقدمہ اس کیس میں واجب عمل ہی نہیں ہے تو فیئر ٹرائل کہاں سے ہو گا۔بابر اعوان نے مزید کہا کہ قانون کے سامنے کوئی اچھا برا نہیں جب تک اس پر جرم ثابت نا ہو جائے۔ بعدازاں جسٹس عامر فاروق نے سینیٹر اعظم سواتی کی درخواست ضمانت منظور کرتے ہوئے انہیں 2 لاکھ روپے کے مچلکے جمع کرانے کا حکم دیا ہے۔

 

Leave A Reply

Your email address will not be published.

ٹول بار پر جائیں