اسمبلیاں تحلیل ہونے پر ضمنی انتخابات ہوں گے یا عام؟

تفصیلات کے مطابق راولپنڈی جلسے میں عمران خان نے تمام اسمبلیوں سے باہر آنے کا اعلان کیا تھا جس پر الیکشن کمیشن کا واضح موقف آگیا ہے۔ ترجمان الیکشن کمیشن کا کہنا ہے کہ اگر تحریک انصاف صوبائی اسمبلیاں تحلیل کرتی ہے تو قومی نہیں صرف متعلقہ صوبائی اسمبلی کا الیکشن دوبارہ ہوگا اور جتنے بھی اراکین مستعفی ہوں گے ان حلقوں میں 60 روز کے اندر ضمنی انتخابات ہوں گے۔ ترجمان الیکشن کمیشن سے سوال کیا گیا کہ کیا ایک ہی سال میں ضمنی اور عام انتخابات کرانا مشکل نہیں ہے؟ اس پر ترجمان نے کہا کہ مشکل ہے لیکن ہم قانون کے پابند ہیں۔ حلقہ بندیاں اور بلدیاتی انتخابات بھی مشکل کام تھے مگر ہم نے کیے تو اگر اس معاملے میں بھی مشکل ہے مگر ہم قانون کے مطابق انتخابات کرائیں گے۔ ترجمان الیکشن کمیشن نے کہا کہ کسی بھی صوبائی حلقے میں انتخابات پر تقریباً 5 سے 7 کروڑ روپے خرچ ہوں گے۔ اگر پنجاب اور کے پی کی اسمبلیوں کے تحلیل ہونے پر وہاں دوبارہ انتخابات ہوئے تو ان پر کم از کم ساڑھے 22 ارب روپے خرچ ہوں گے۔

 

Leave A Reply

Your email address will not be published.

ٹول بار پر جائیں